MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جاگتی آنکھوں کے خواب

نظم

کیا میں اپنی نیند سے بیدار ہوں
یا میں خوابیدہ ہوں اپنے خواب میں
پہلے بھی تو ہو چکا ہے با رہا
کھائے دھوکے میں نے کتنے خواب میں
جب نہیں ہے روشنی کی سمت ہی
کس طرف کو چل رہے ہو کیا پتا
تیرگی کی وسعتیں ہیں لا مکاں
اور میں اس میں ہوں گویا بے نشاں
جو کرے روشن وہ سورج ہے کہاں
کس طرح ابھرے گا اب خورشید یاں
تیرگی ہے تیرگی ہے لامکاں
ہاں مری گھٹ ٹی میں ہے شاید کہیں
ایک پیوستہ تلاش اس پر تلاش
اس لیے شاید میں اکثر بے سبب
دیکھتا ہوں بند آنکھوں سے کئی
جابجا اس روشنی ہونے کے خواب
خواب اور ان جاگتی آنکھوں کے خواب

آصف سہل مظفر

Asif Sehal Muzaffar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم