MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیں

غزل

الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیں
سل وٹیں جب کسی کو ڈستی ہیں

جب تماشا ہو رات بھر برپا
الجھی ڈوریں کہاں سلج ھتی ہیں

جل گئے جو وفا پہ کامل تھے
رات بھر شمعیں کیوں تھرکتی ہیں

ڈوبا سورج تو یہ ہوا معلوم
کیسے کرنیں یہاں پلٹتی ہیں

میرے اندر بھی میں ہی ہوں تب ہی
مجھ پہ خوشیاں جو یہ گرجتی ہیں

جن کے رہبر ہی کھودیں منزل کو
ان کی راہیں کہاں سنورتی ہیں

مجھ کو وحشت نے آ لیا پھر سے
حیرتیں چہرے سے چھلکتی ہیں

خواب ٹوٹا تو میں نے پھر جانا
ہجرتیں کیوں یہاں پنپتی ہیں

آصف سہل مظفر

Asif Sehal Muzaffar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم