MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میں

غزل

روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میں
یعنی سچ ہے اس ادھوری موت سے ڈرتا ہوں میں

تیرگی میں روشنی کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں
ہے محبت فاتحِ عالم یہی سنتا ہوں میں

کچھ فصیلِ وقت سے پرواز بھرتے فیصلے
اور کچھ لمحہ بہ لمحہ خود سے ہی ڈرتا ہوں میں

بیچ پستی سے بلندی آ گیا ہوں ہائے دل
ایسا انساں ہوں کے اٹھتا ہوں مگر گرتا ہوں میں

بولنے لگتے ہیں دکھ آصف تری آنکھوں میں جب
شبنمی راتوں میں پھر تو جاگتا رہتا ہوں میں

آصف سہل مظفر

Asif Sehal Muzaffar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم