یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر
یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پرہم نے عمر بھر ڈھویا اک جہان کاندھوں پر سوچتے تھے دھرتی کی مانگ ہم سنواریں گےآ گرا ہے چلتے ہی آسمان کاندھوں پر فرصتِ رہائی بھی یوں ملی کہ رکھی ہےاک چٹان پیروں پر اک چٹان کاندھوں پر ہم نے یوں بسر کرلی عمر رائیگانی
یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر Read More »