MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر

یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پرہم نے عمر بھر ڈھویا اک جہان کاندھوں پر سوچتے تھے دھرتی کی مانگ ہم سنواریں گےآ گرا ہے چلتے ہی آسمان کاندھوں پر فرصتِ رہائی بھی یوں ملی کہ رکھی ہےاک چٹان پیروں پر اک چٹان کاندھوں پر ہم نے یوں بسر کرلی عمر رائیگانی

یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر Read More »

اونٹ کی شادی

نیا یہ آج کے پرچہ نے گل کھلایا ہےکہ سہرا باندھ کے اک اونٹ بلبلایا ہے شتر کے گھر میں پیامِ بہار ہے سہراکبھی کبھی تو بڑا بے مہار ہے سرا مرے بنے کو مبارک یہ خوش گوار گھڑیکہ سر کا درد بڑھا ناک میں نکیل پڑی سمجھ لیا تھا جسے جانور سواری کاوہ اونٹ

اونٹ کی شادی Read More »

آ لوٹ چلیں پھر سے اسی پار مرے یار

آ لوٹ چلیں پھر سے اسی پار مرے یاراس شہر کے اچھے نہیں آثار مرے یار جب بات سنورتی ہو محبت کی زباں سےپھر ہاتھ میں رکھتے نہیں تلوار مرے یار اس بھیڑ میں کھو جائے گا ہو جائے گا تنہامیں کرتا نہ تھا تجھ کو خبردار مرے یار اب پیروں میں رکھ لے یا

آ لوٹ چلیں پھر سے اسی پار مرے یار Read More »

دیے کے جسم میں جب تک ذرا سی جان باقی ہے

دیے کے جسم میں جب تک ذرا سی جان باقی ہےہواؤں کے پلٹ آنے کا بھی امکان باقی ہے وہ میرا نام لیتا ہے بڑے فخر و عقیدت سےخدا کا شکر ہے اس کو مری پہچان باقی ہے شفق کے رنگ دیتے ہیں پتہ اجلی سویروں کامگر سورج نکلنے کا ابھی اعلان باقی ہے کسی

دیے کے جسم میں جب تک ذرا سی جان باقی ہے Read More »

چھین لے مجھ سے میری سچائی

چھین لے مجھ سے میری سچائی یا عطا کر نہ تابِ گویائی پھر نیا کوئی گل کھلائے گیتیری بے جا محاذ آرائی زندگی ہے بدلتی رت کی طرحبے سکونی ہو یا شکیبائی خواب میں آج بھی ہے قوس قزحاس نے اک بار لی تھی انگڑائی اس سے انصاف کی توقع کیاجو نہیں رکھتا تابِ شنوائی

چھین لے مجھ سے میری سچائی Read More »

وہ شعلہ رو گل و شبنم سا بن گیا تھا کبھی

وہ شعلہ رو گل و شبنم سا بن گیا تھا کبھییہ معجزہ بھی مرے سامنے ہوا تھا کبھی وہ شخص جس سے عبارت ہے روشنی کی کتابمرے اندھیرے میں رکھا ہوا دیا تھا کبھی اسی خطا پہ مجھے دھوپ کا عذاب ملاکسی درخت سے سایا طلب کیا تھا کبھی میں یوں تو روز نئے خواب

وہ شعلہ رو گل و شبنم سا بن گیا تھا کبھی Read More »

دل اس کے ملنے کا جب ختم ہر امکان کر دے گا

دل اس کے ملنے کا جب ختم ہر امکان کر دے گاوہ میرے سامنے آ کر مجھے حیران کر دے گا جسے بھرلوں گا میں اپنی رگوں میں خون کی صورتخبر کیا تھی وہی تنہائی کا سرطان کردے گا پڑے گا ہاتھ جب مظلوم کا ظالم کی پگڑی پروہ شاطر پھر کوئی مسرور کن اعلان

دل اس کے ملنے کا جب ختم ہر امکان کر دے گا Read More »

فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوں

فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوںکسی دشمن کا بہکایا ہوا ہوں مرے آنسو ترے غم کا تدارکبس اتنا ہے کہ بہلایا ہوا ہوں مرے رستے میں سورج آ گیا ہےتجھے لگتا ہے گہنایا ہوا ہوں مرے غم میں بھی پرچم سر نگوں رکھبرائے عشق دفنایا گیا ہوں مری عظمت کا مجھ سے پوچھتے ہوزبانِ

فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوں Read More »

یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گی

یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گیمجھے اندھے سفر کی یہ مسافت مار ڈالے گی برائے زندگی خود کو سفر سے باندھ رکھا ہےمیں دم لوں گا تو مجھ کو گھر کی راحت مار ڈالے گی میں خود کو اس لیے بھی خود پہ وا ہونے نہیں دیتاکھلے گی مجھ پہ جب

یہ لگتا ہے کہ یک طرفہ محبت مار ڈالے گی Read More »

پہلو میں اب تو کوئی غمزہ نہیں مچلتا

پہلو میں اب تو کوئی غمزہ نہیں مچلتابرسوں سے اس نگر میں سورج نہیں نکلتا شبنم بھی اب چمن میں آنسو نہیں بہاتیکیوں میری چشمِ نم کا عالم نہیں بدلتا اس دن کو میں نے خارج سمجھا ہے زندگی سےجس دن تماہرے غم میں سینہ نہیں پگھلتا کیا ڈھونڈتے ہو میرے دامن کی وسعتوں میںسوکھا

پہلو میں اب تو کوئی غمزہ نہیں مچلتا Read More »