MOJ E SUKHAN

دیے کے جسم میں جب تک ذرا سی جان باقی ہے

دیے کے جسم میں جب تک ذرا سی جان باقی ہے
ہواؤں کے پلٹ آنے کا بھی امکان باقی ہے

وہ میرا نام لیتا ہے بڑے فخر و عقیدت سے
خدا کا شکر ہے اس کو مری پہچان باقی ہے

شفق کے رنگ دیتے ہیں پتہ اجلی سویروں کا
مگر سورج نکلنے کا ابھی اعلان باقی ہے

کسی حالت میں بھی مجھ کو کبھی تنہا نہیں کرتا
مرے ہمراہ میرے جیسا اک انسان باقی ہے

میں جب بھی دیکھتا ہوں آئنہ حیران ہوتا ہوں
ابھی تک میرے سینے میں وہ آتش دان باقی ہے

سلامت ہوں اگر میں آج بھی اس برف وادی میں
حصولِ رزق کا سمجھو ابھی میلان باقی ہے

خلیل اس شہر میں اب بھی وفا بارش نہ اترے گی
گھٹاؤں کا جو پہلے تھا وہی بحران باقی ہے

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم