MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں

کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں، جو پھر بھی خواب دیکھتے ہیں غموں کے بحر میں خوشیوں کو ڈوبتے ہر روز یہ بد نصیب، یہ خانہ خراب دیکھتے ہیں ستم گرو! یہ ستم منحصر تو زیست پہ ہے ہے کب تلک یہ کسے دستیاب، دیکھتے ہیں ہے پھر سے

کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں Read More »

تشنہ کاموں کو جام کا حق دو

تشنہ کاموں کو جام کا حق دو میکدے میں قیام کا حق دو زندگی کو قریب سے دیکھو وحشتوں سے کلام کا حق دو خود سے مل لوں، کہ جی بہل جائے دوستو! ایک شام کا حق دو مختصر زیست پر ،حساب و کتاب مجھ کو عمرِ دوام کا حق دو کس قدر دوڑ تا

تشنہ کاموں کو جام کا حق دو Read More »

حدتِ غم سے شب و روز پگھلتا ہوا میں

حدتِ غم سے شب و روز پگھلتا ہوا میں عکس در عکس نئے درد میں ڈھلتا ہوا میں ایسا لگتا ہے ، کسی آگ میں چھوڑ آیا ہوں شور کرتا ہوں ، کہیں دور سے جلتا ہوا میں سرد لہجوں کی تپش ایسے جلائے جیسے برہنہ جسم لیے، برف پہ چلتا ہوا میں اے دسمبر

حدتِ غم سے شب و روز پگھلتا ہوا میں Read More »

رنگینیاں بہار کی ، بعدِ خزاں مجھے

رنگینیاں بہار کی ، بعدِ خزاں مجھے آجائیں راس ! ایسا نہیں ہے گماں مجھے یا تو سکوتِ قلب ہی درماں ہو درد کا یا دے سکونِ قلب کو بھی اک جہاں مجھے مانا کہ قید ہوں ابھی، اس جسم و جاں کے بیچ دشوار پر نہیں ہے کوئی کہکشاں مجھے لے آیا ہے جنوں

رنگینیاں بہار کی ، بعدِ خزاں مجھے Read More »

نہ شعلہ تھا ، نہ میں کوئی شرر ہوں

نہ شعلہ تھا ، نہ میں کوئی شرر ہوں اٹھا تھا خاک سے ، اور خاک پر ہوں یہ کس کو ڈھونڈنے کی جستجو ہے کیوں اپنی ذات میں محوِ سفر ہوں حقیقت بد نما تھی اس لیے میں ابھی تک خواب کے زیرِ اثر ہوں ترے خدشات سب اپنی جگہ ہیں میں انساں ہوں

نہ شعلہ تھا ، نہ میں کوئی شرر ہوں Read More »

میں جس کے واسطے آمادہ ء زوال رہا

میں جس کے واسطے آمادہ ء زوال رہا اس ایک شخص کا ملنا مجھے محال رہا جواب بن نہ سکا، جب بھی مجھ سے پوچھا گیا وہ اک سوال تھا ، اور عمر بھر سوال رہا بدلنے کب دیا ، مجھ کو بدلتے وقت کے ساتھ یہ میرا آئینہ کب میرا ہم خیال رہا تھا

میں جس کے واسطے آمادہ ء زوال رہا Read More »

ہو نہ جائے یہ سفر بھی باعثِ آزار دیکھ

ہو نہ جائے یہ سفر بھی باعثِ آزار دیکھ در بنالے راہ میں گر تو کوئی دیوار دیکھ میں خرد مندوں میں ہوں تنہا جنوں کا پاسباں یعنی خود کو کرچکا ہوں اس قدر بیکار دیکھ زندگی نے مجھ کو آخر کیا دیا ، یہ پوچھ مت دیکھ چشمِ نم ادھر ، یہ دیدۂ خوں

ہو نہ جائے یہ سفر بھی باعثِ آزار دیکھ Read More »

میں خود نوشت سے گزرا، عذاب سے گزرا

میں خود نوشت سے گزرا، عذاب سے گزرا بیانِ دشتِ طلاطم کے باب سے گزرا قلم کی نوک سے مجروح ، آبروئے ورق ہر ایک لفظ مسلسل عتاب سے گزرا جہانِ کن سے چلا گردشِ زمیں کی طرف کہ پہلے خواب سے ، اور پھر سراب سے گزرا چھپا ہوا ہے جو بس اس کو

میں خود نوشت سے گزرا، عذاب سے گزرا Read More »

جمہوری ماہ و سال وغیرہ کی بات ہے

جمہوری ماہ و سال وغیرہ کی بات ہےشقدھرنوں کی ہے ہڑتال وغیرہ کی بات ہے جمہوریت میں کون غلط کون ہے صحیحسچ پوچھیے تو مال وغیرہ کی بات ہے دیکھا جو سر تو اصلی و نقلی کا شور تھاظاہر ہوا کہ بال وغیرہ کی بات ہے جو ٹین تھا وہ بڑھ کے تو ہنڈریڈ ہو

جمہوری ماہ و سال وغیرہ کی بات ہے Read More »

پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کی

پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کیبد دعا ایسی مجھے دوست نے دی پانی کی پھر وہی دشتِ بلا ہے وہی خودداریِ دلپھر وہی پیاس وہی مردہ دلی پانی کی میں اسی زعم میں رہتا ہوں رواں اس کی طرفبانج کردے نہ سمندر کو کمی پانی کی میں کناروں سے اڑاتا رہا سورج

پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کی Read More »