کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں
کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں، جو پھر بھی خواب دیکھتے ہیں غموں کے بحر میں خوشیوں کو ڈوبتے ہر روز یہ بد نصیب، یہ خانہ خراب دیکھتے ہیں ستم گرو! یہ ستم منحصر تو زیست پہ ہے ہے کب تلک یہ کسے دستیاب، دیکھتے ہیں ہے پھر سے
کھلے جو آنکھ تو پیہم سراب دیکھتے ہیں Read More »