MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ شعلہ رو گل و شبنم سا بن گیا تھا کبھی

وہ شعلہ رو گل و شبنم سا بن گیا تھا کبھی
یہ معجزہ بھی مرے سامنے ہوا تھا کبھی

وہ شخص جس سے عبارت ہے روشنی کی کتاب
مرے اندھیرے میں رکھا ہوا دیا تھا کبھی

اسی خطا پہ مجھے دھوپ کا عذاب ملا
کسی درخت سے سایا طلب کیا تھا کبھی

میں یوں تو روز نئے خواب بنتا رہتا ہوں
مگر نگاہ میں اب بھی ہے جو خلا تھا کبھی

گرا زمیں پہ تو اپنا مقام بھول گیا
وہ آدمی جو ستاروں سے ماورا تھا کبھی

گری فصیل کی ہر اینٹ کہہ رہی ہے خلیل
کہ ایک شہرِ درخشاں یہاں بسا تھا کبھی

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم