پرائیویٹ بس
گھر آنے کو جب مل نہ سکی کوئی سواری سو چا کہ چلو چل کے پکڑ لیں کوئی لاری جس بس میں سفر کرنے کو مجبور ہوئے ہماس بس کا ’’خداوند‘‘ تھا اک ہٹلراعظم اس سوچ میں تھا، بس کو چلاۓ نہ چلاۓڈرتا تھا کہ رستے میں دھرا ٹوٹ نہ جاۓ جب چڑھ گئی ہر ایک سواری
گھر آنے کو جب مل نہ سکی کوئی سواری سو چا کہ چلو چل کے پکڑ لیں کوئی لاری جس بس میں سفر کرنے کو مجبور ہوئے ہماس بس کا ’’خداوند‘‘ تھا اک ہٹلراعظم اس سوچ میں تھا، بس کو چلاۓ نہ چلاۓڈرتا تھا کہ رستے میں دھرا ٹوٹ نہ جاۓ جب چڑھ گئی ہر ایک سواری
نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہےمری راہ پھر بھی ہے مختلف ترا راستہ کوئی اور ہے پس مرگ خاک ہوئے بدن وہ کفن میں ہوں کہ ہوں بے کفننہ مری لحد کوئی اور ہے نہ تری چتا کوئی اور ہے وہ جو مہر بہر نکاح تھا وہ دلہن کا
نہ مرا مکاں ہی بدل گیا نہ ترا پتہ کوئی اور ہے Read More »
غالبؔ شکن ہزار ہیں صرف اک یگانہ کیااس کا مگر بگاڑ سکا ہے زمانہ کیا جو نان میٹرک تھے وہ افسر بنے یہاںاب جو پی ایچ ڈی ہیں وہ بیچیں کرانا کیا مجھ سے یہ پوچھتی ہے مرے دل کی مالکنتم پر مرے حقوق نہیں مالکانہ کیا میرا کلام سن کے اک استاد نے کہابیٹے
غالبؔ شکن ہزار ہیں صرف اک یگانہ کیا Read More »
میں شہر کراچی سے کہاں بہر سفر جاؤںجی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤںاس شہر نگاراں کو جو چھوڑوں تو کدھر جاؤںصحرا مرے پیچھے ہے تو دریا مرے آگے اس شہر میں کچھ حسن کا معیار نہیں ہےبیوٹی کی ضرورت سر بازار نہیں ہےیوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں ہےشو کیس میں
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے Read More »
کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میںوہ کون ہے کہ شاعر اعظم جسے کہیں میں نے کہا جگرؔ تو کہا ڈیڈ ہو چکےمیں نے کہا کہ جوشؔ کہا قدر کھو چکے میں نے کہا فراقؔ
کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں Read More »
مشاعرے کے لئے قید طرح کی کیا ہےیہ اک طرح کی مشقت ہے شاعری کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ میں طرح میں غزل لکھوںانہیں خبر ہی نہیں میری پالیسی کیا ہے غزل جو طرح میں لکھی ہے کس طرح لکھییہ پوچھنے کی کسی کو اتھارٹی کیا ہے غزل کی شکل بدل دی ہے آپریشن
مشاعرے کے لئے قید طرح کی کیا ہے Read More »
Jo Samaat Tak na pohnchi Main wo hi Faryaad hoon جو سماعت تک نہ پہنچی میں وہی فریاد ہوںاس لیے بھی گوشہِ تنہائی میں آباد ہوں میری تنہائی نے میرے گال پر بوسے دھرےہجر کو میں اس لیے بھی منہ زبانی یاد ہوں جس نوالے کو سمجھ کر حق اتارا پیٹ میںاس نوالے کی ادھوری
جو سماعت تک نہ پہنچی میں وہی فریاد ہوں Read More »
سو حوالوں سے کھیلنے والی وہ خیالوں سے کھیلنے والی ہم مسافر سیاہ راتوں کے وہ اجالوں سے کھیلنے والی اب مری زندگی سے کھیلے گی میرے بالوں سے کھیلنے والی وہ مرا ہجر اوڑھتی کیسے نرم شالوں سے کھیلنے والی خاک سمجھے گی پیار کا مطلب وہ غزالوں سے کھیلنے والی ایک دستک سے
سو حوالوں سے کھیلنے والی Read More »
تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا وہ مرے یار مر گئے ہیں کیا میرے مرنے پہ کیوں نہیں روتے سب عزادار مر گئے ہیں کیا اب کہاں ہیں وہ چارہ گر میرے جا کے اُس پار مر گئے ہیں کیا وہ تسلی جو دینے آتے تھے دلِ بیمار مر گئے ہیں کیا ہر
تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا Read More »
ہم نے جتنی محبتیں کی ہیں بخدا سب بغاوتیں کی ہیں وہ محبت نہیں ملی پھر بھی جس کی خاطر محبتیں کی ہیں قریہ قریہ حسین چہروں کی لمحہ لمحہ زیارتیں کی ہیں ہم نے پوری وفا کے رستے میں اپنی اپنی ضرورتیں کی ہیں جس کو چاہا بھلا دیا اس کو عشق میں بھی
ہم نے جتنی محبتیں کی ہیں Read More »