MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرے جوبن پہ بی جنات کا سایہ ہوجائے

تیرے جوبن پہ بی جنات کا سایہ ہوجائے
تیرا جوبن نہ ہو وہ تیرا پرایا ہوجائے

اپنے جوبن پہ نہ اٹھلا نہ تو اترا اتنی
کہیں ایسا نہ ہو جوبن ترا گدلا ہوجائے

ٹوٹی پھوٹی سی عمارت ہو ترا سارا بدن
یہ مٹکتا سا ترا جسم کباڑا ہوجائے

آئیں رشتے ترے بھوتوں کے پریتوں کے کئی
جو موالی ہو اسی سے ترا رشتہ ہوجائے

کالی مائی کی طرح کلموئی تو بھی بنے
رنگ چہرے کا ترا اور بھی کالا ہوجائے

تو جوانی میں بھی بوڑھی نظر آئے سب کو
تجھ پہ طاری یہ ہمیشہ کا بڑھاپا ہوجائے

اے فریبین مجھے ہر گاہ دیا تو نے فریب
اب تو خود اپنے فریبوں کا نشانہ ہوجائے

میں نے واسوخت کا انشا یوں سہارا ہے لیا
ان ہی اشعار سے شکووں کا ازالہ ہوجائے

صفدر علی انشا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم