MOJ E SUKHAN

سو حوالوں سے کھیلنے والی

سو حوالوں سے کھیلنے والی
وہ خیالوں سے کھیلنے والی

ہم مسافر سیاہ راتوں کے
وہ اجالوں سے کھیلنے والی

اب مری زندگی سے کھیلے گی
میرے بالوں سے کھیلنے والی

وہ مرا ہجر اوڑھتی کیسے
نرم شالوں سے کھیلنے والی

خاک سمجھے گی پیار کا مطلب
وہ غزالوں سے کھیلنے والی

ایک دستک سے ڈر گئی شہ دل
ٹوٹے تالوں سے کھیلنے والی

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم