Jo Samaat Tak na pohnchi Main wo hi Faryaad hoon
جو سماعت تک نہ پہنچی میں وہی فریاد ہوں
اس لیے بھی گوشہِ تنہائی میں آباد ہوں
میری تنہائی نے میرے گال پر بوسے دھرے
ہجر کو میں اس لیے بھی منہ زبانی یاد ہوں
جس نوالے کو سمجھ کر حق اتارا پیٹ میں
اس نوالے کی ادھوری میں فقط روداد ہوں
نوچتی ہیں جسم کو میرے قفس کی تیلیاں
اور دعویٰ ہے مرا قیدی نہیں آزاد ہوں
اک طرف ہے زندگی تو موت ہے دوجی طرف
اور مسلسل کہہ رہا ہوں گھر کی میں بنیاد ہوں
رنج و غم کی آنچ پر تبخیر کی ہے زندگی
کور چشمی کہہ رہی ہے سرمہِ شداد ہوں
خود سے جب بچھڑا تو مجھ پر راز یہ بھی کھل گیا
دامِ حیرت میں سسکتا میں بھی اک فرہاد ہوں
دشتِ فطرت میں لگائے خیمہِ احساس کو
چین سے سوتا رہا میں اس لیے برباد ہوں
کھینچ لے گی دیکھنا اب مجھ کو پھر سے بے بسی
کیونکہ میں حصوں میں بٹ پر شاد ہوں آباد ہوں
سچ کہوں موجِ نسیمی آج تیرے روبرو
میں یہاں اپنے تئیں خود صید ہوں صیاد ہوں
نسیم شیخ
Naseem Shaikh