MOJ E SUKHAN

فرسودہ دلیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

فرسودہ دلیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے
چالاک وکیلوں نے مجھے بانٹ لیا

میں جیسے ہی دنیائے فسادات میں اترا
بے رحم قبیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

شہ رگ سے خدا تک کا سفر ماپنے نکلا
ہر سانس پہ میلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

میں بھوک کے قدموں میں ابھی جان بہ لب تھا
کچھ دشت کی چیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

خوش رنگ پرندوں کے لیے جھیل تھا میں بھی
گرتے ہوئے ٹیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

انساں ہی بنا میں نہ مسلمان مکمل
ملآ ترے حیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

.میں باپ کی پگڑی کا نگہبان تھا شہ دل
پر گھر کی فصیلوں نے مجھے بانٹ لیا ہے

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم