سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہے
جوالہ ہے شعلہ ہے شرارہ ہے کہ دل ہے
یادوں کا لگا میلہ جھمیلہ ہے کہ دل ہے
غوغا ہے کہ بلوہ ہے تماشہ ہے کہ دل ہے
بے گور کفن لاشوں کی تصویریں سجی ہیں
زندان ہے مقتل ہے کمیلا ہے کہ دل ہے
بے سمت جو یادوں کے اُڑے جاتے ہیں پنچھی
طوفان ہے آندھی ہے بگولہ ہے کہ دل ہے
ٹوٹی ہوئی قبریں ہیں تو حسرت زدہ کتبے
آثارِ قدیمہ کا یہ نقشہ ہے کہ دل ہے
زنجیر زنی ہے تو کہیں مرثیہ خوانی
یہ ماتمی دستہ ہے جنازہ ہے کہ دل ہے
سنتا ہوں کہ دل جیسی کوئی شےنہیں مجھ میں
جب ہاتھ میں رکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ دل ہے
لگتا ہی نہیں شمس ترے دل کا کہیں مول
ناکارہ مشینی کوئی پرزہ ہے کہ دل ہے
شاہ دل شمس