MOJ E SUKHAN

سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہے

سینے میں کوئی آگ کا گولہ ہے کہ دل ہے
جوالہ ہے شعلہ ہے شرارہ ہے کہ دل ہے

یادوں کا لگا میلہ جھمیلہ ہے کہ دل ہے
غوغا ہے کہ بلوہ ہے تماشہ ہے کہ دل ہے

بے گور کفن لاشوں کی تصویریں سجی ہیں
زندان ہے مقتل ہے کمیلا ہے کہ دل ہے

بے سمت جو یادوں کے اُڑے جاتے ہیں پنچھی
طوفان ہے آندھی ہے بگولہ ہے کہ دل ہے

ٹوٹی ہوئی قبریں ہیں تو حسرت زدہ کتبے
آثارِ قدیمہ کا یہ نقشہ ہے کہ دل ہے

زنجیر زنی ہے تو کہیں مرثیہ خوانی
یہ ماتمی دستہ ہے جنازہ ہے کہ دل ہے

سنتا ہوں کہ دل جیسی کوئی شےنہیں مجھ میں
جب ہاتھ میں رکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ دل ہے

لگتا ہی نہیں شمس ترے دل کا کہیں مول
ناکارہ مشینی کوئی پرزہ ہے کہ دل ہے

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم