MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو تیرگی کو مٹادے وہ روشنی ہوجا

جو تیرگی کو مٹادے وہ روشنی ہوجا
فنا جو کردے جہالت وہ آگہی ہوجا

خدا شناسی تری دسترس سے باہر ہے
تو اپنے آپ کو پہچان اور ولی ہوجا

اگر گزر ہو ترا نفرتوں کی بستی سے
جہاں قیامِ محبت ہو وہ گلی ہوجا

ہے تیری ذات میں موجود حق بھی باطل بھی
ہے اختیار تجھے، چاہے جو، وہی ہوجا

حریصِ دارِ فنا دل کو مت بنا اپنے
ہوائے نفس سے بچ، حرص کی نفی ہوجا

جبین خاک پہ رکھ، اوجِ بندگی پالے
مٹادے ظلمتِ عصیاں رخِ جلی ہوجا

کھِلا گلاب ہی رونق نہیں گلستاں کی
نہ بن سکے تو اگر گُل تو اک کلی ہوجا

تلاشِ نقشِ کفِ پائے مصطفیٰ میں نکل
سگِ گدائے درِ زہرا و علی ہوجا

کسی دکھے ہوئے دل کو صبا ؔ خوشی دے کر
جو چشمِ دل میں اتر آئے وہ نمی ہوجا

کلام: صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم