MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مری دھڑکنوں کا اسیر دل مری چاہتوں کا گواہ ہے

Mri Dharkanoo ka Aseer Dil mri chahatoo ka gawah hay

غزل

مری دھڑکنوں کا اسیر دل مری چاہتوں کا گواہ ہے
مجھے علم ہے تبھی رنج و غم تری اس پہ گہری نگاہ ہے

جسے ریزہ ریزہ کیا گیا جسے تو نے سمجھا کے مٹ گیا
وہ شکستہ جاں وہی جاں بہ لب وہ مکان تیری پناہ ہے

مری داستان میں ذکر ہے ترا جا بجا تبھی جانِ جاں
مرے بعد دیکھ لے جاوداں ترا نام ہے مری آہ ہے

مجھے دل سے تو نے نکال کر جہاں لا کے پھینکا تھا با خدا
وہاں ہم مزاج ہے ہر کوئی نہ گدا ہے کوئی نہ شاہ ہے

وہ جو زندگی تھی گزر گئی وہ جو شوق تھا وہ فنا ہوا
یہ جو مجھ میں زندہ ہے آج کل یہ ادھوری دل تری چاہ ہے

یہ جو مرتبہ مجھے مل گیا ہے سخنوری میں عجیب سا
یہ مرے خیال کی وسعتیں مری زندگی کی پناہ ہے

یہ جو خونی رشتوں کے درمیاں میں رہا ہوں تنہا جہان میں
یہ بھی معجزہ ہے عجیب سا یہ بھی زندگی سے نباہ ہے

مرے دل پہ رنج و الم نے جو کیا رقص اس پہ کہوں گا میں
وہی رقص دورِ ملال میں وجہ حیرتِ شبِ ماہ ہے

کروں کیا میں درج کتاب میں غمِ زندگی ترا تذکرہ
نہ وہ دل فریبی کی داستاں نہ کسی کی مجھ پہ نگاہ ہے

میں کروں تو کیسے کروں سفر سرِ آئنہ پسِ آئنہ
مرے ہم سفر ہیں یہ آبلے مری خار خار ہی راہ ہے

نسیم شیخ

Naseem Shaikh

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم