MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں

اب اس عذاب شب و روز سے بچاؤ ہمیں

۔

کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے

نمود صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں

۔

نہیں ہے خون شہیداں کی کوئی قدر یہاں

لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں

۔

تمام عمر کا سودا ہے ایک پل کا نہیں

بہت ہی سوچ سمجھ کر گلے لگاؤ ہمیں

۔

گزر چکے ہیں مقام جنوں سے دیوانے

یہ جان لینا اگر کل یہاں نہ پاؤ ہمیں

۔

ہمارے خوں سے نکھر جائے غم تو کیا کہنا

بڑھاؤ دست ستم دار پر چڑھاؤ ہمیں

۔

کرشمہ سازیٔ فکر و نظر سے کیا حاصل

بنے ہو خضر تو پھر راستہ دکھاؤ ہمیں۔

یہ لمحہ بھر کا تصور تو جان لیوا ہے

جو یاد آؤ تو تا عمر یاد آؤ ہمیں

۔

کتاب عشق ہیں لیکن نہ اتنی فرسودہ

کہ بے پڑھے ہی فقط میز پر سجاؤ ہمیں

۔

اجڑ نہ جائے عروس سخن کی مانگ کہیں

خیال و فن کی نئی جنگ سے بچاؤ ہمیں

منظر ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم