اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے
اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے ۔ ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہے سو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے ۔ یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کا سخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو
اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے Read More »