MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے ۔ ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہے سو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے ۔ یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کا سخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے Read More »

سوا نیزے پہ آکر جان رکھتا

Sawa Neezay pa aakar jaan Rakhta غزل سوا نیزے پہ آکر جان رکھتااگر وہ عشق کی پہچان رکھتا کھرے کھوٹے کو تب ہی جان پاتاصداقت پر اگر ایمان رکھتا اگر وہ دل سے مجھ کو چاہتا تومرے دل کا کبھی تو مان رکھتا سمجھ آتا مجھے اس کا چلن بھیوہ شکوہ دل میں گر نادان

سوا نیزے پہ آکر جان رکھتا Read More »

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں ۔ دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو تم بھی ناں ۔ ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو تم بھی ناں ۔ عشق

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں Read More »

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو کاش ہو جائے یہ خبر تم کو ۔ زندگی میں کبھی کسی کو بھی میں نے چاہا نہیں مگر تم کو ۔ جانتی ہوں کہ تم نہیں موجود ڈھونڈھتی ہے مگر نظر تم کو ۔ تم بھی افسوس راہ رو نکلے میں تو سمجھی تھی ہم سفر

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو Read More »

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی اپنی شرطوں پہ جیے اس سے گزارش نہیں کی ۔ اس نے اک روز کیا ہم سے اچانک وہ سوال دھڑکنیں تھم سی گئیں وقت نے جنبش نہیں کی ۔ کس لئے بجھنے لگے اول شب سارے چراغ آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی Read More »

زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے

زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے اک گھروندا ریت کا تھا جس کو گھر کرتے رہے ۔ ہم کو بھی معلوم تھا انجام کیا ہوگا مگر شہر کوفہ کی طرف ہم بھی سفر کرتے رہے ۔ اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے ۔

زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے Read More »

کہانی کو نیا اک موڑ دینا ہی غنیمت ہے

Kahani ko naya ik moor dena hi ghaneemat hay غزل کہانی کو نیا اک موڑ دینا ہی غنیمت ہےیہاں کردار کا دل توڑ دینا ہی غنیمت ہے جہاں احساس مر جائے محبت ختم ہوجائےادھورے ساتھ کو پھر چھوڑ دینا ہی غنیمت ہے مسافت سے مسافر یونہی گھبرانے لگے تو پھرسفر میں رخ ہوا کا موڑ

کہانی کو نیا اک موڑ دینا ہی غنیمت ہے Read More »

تمہارا جو سہارا ہو گیا ہے

تمہارا جو سہارا ہو گیا ہے بھنور بھی اب کنارا ہو گیا ہے ۔ محبت میں بھلا کیا اور ہوتا مرا یہ دل تمہارا ہو گیا ہے ۔ تمہاری یاد سے ہے وہ چراغاں کی آنسو بھی ستارا ہو گیا ہے ۔ عجب ہے موسم بے اختیاری کی جب سے وہ ہمارا ہو گیا ۔

تمہارا جو سہارا ہو گیا ہے Read More »

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی ۔ موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی ۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی ۔ چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ

ہو گئی بات پرانی پھر بھی Read More »

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں سو ہم دامن بچانا جانتے ہیں ۔ تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں ۔ کھنکتی نقرئی دل کش ہنسی میں ہم اپنا غم چھپانا جانتے ہیں ۔ بلانا ہی نہیں پڑتا ہے عنبرؔ یہ غم اپنا ٹھکانہ جانتے ہیں عنبرین حسیب عنبر

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں Read More »