MOJ E SUKHAN

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

جو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

۔

وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہے

میں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

۔

غبار ہوں آپ چاہے غازہ بنائیں یا زیر پا بچھا لیں

میں کب سے رقصاں ہوں تھک چکا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

۔

بہت ہی شائستگی سے ہر لمحہ ڈوبتی اک صدا کی صورت

میں خلوت جاں میں بجھ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

۔

بلا سے یہ راہ شوق میری نہ ہو سکی پر تمہاری خاطر

مثال نقش قدم بچھا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

پیرزادہ قاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم