MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

اپنی شرطوں پہ جیے اس سے گزارش نہیں کی

۔

اس نے اک روز کیا ہم سے اچانک وہ سوال

دھڑکنیں تھم سی گئیں وقت نے جنبش نہیں کی

۔

کس لئے بجھنے لگے اول شب سارے چراغ

آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی

۔

اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب

ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

۔

ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ

تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

۔

اس نے ظاہر نہ کیا اپنا پشیماں ہونا

ہم بھی انجان رہے ہم نے بھی پرسش نہیں کی

عنبرین حسیب عنبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم