MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

خود دل کو بیقرار کیا ہائے کیا کیا

معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے

اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا

وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار

نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا

خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقی

دامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا

آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میں

نالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا

مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی

کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیا

غم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا

صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکے

عذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا

قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے

قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکا

ہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا

دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاں

پھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا

ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہ

کیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا

کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکر

ایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا

کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکی

توبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیا

تاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا

بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکی

تم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم