MOJ E SUKHAN

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے

کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رو رہی ہے

۔

کسی دیوار پر ناخن نے لکھا ہے رہائی

کسی گھر میں اسیری کی اذیت رو رہی ہے

۔

کہیں منبر پہ خوش بیٹھا ہے اک سجدے کا نشہ

کسی محراب کے نیچے عبادت رو رہی ہے

۔

یہ ماتھے پر پسینے کی جو لرزش تم نے دیکھی

یہ اک چہرے پہ لا حاصل مشقت رو رہی ہے

۔

عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیں

عجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے

۔

یہ خاموشی نہیں سب التجائیں تھک چکی ہیں

یہ آنکھیں تر نہیں رونے کی ہمت رو رہی ہے

۔

جو بعد از ہجر آیا اس کو کیسے وصل کہہ دوں

شکایت سے گلے مل کر ندامت رو رہی ہے

۔

اسے غصہ نہ سمجھو عزمؔ یہ میرے لہو میں

مسلسل ضبط کرنے کی روایت رو رہی ہے

عزم بہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم