MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں
یہ پرندے کہاں سے آئے ہیں

بیٹھ جاتے ہیں راہ رو تھک کر
کتنے ہمت شکن یہ سائے ہیں

دھوپ اپنی زمین ہے اپنی
پیڑ اپنے نہیں پرائے ہیں

اپنے احباب کی خوشی کے لئے
بلا ارادہ بھی مسکرائے ہیں

دشمنوں کو قریب سے دیکھا
دوستوں کے فریب کھائے ہیں

ہم نے توڑا ہے ظلمتوں کا فسوں
روشنی کے بھی تیر کھائے ہیں

دیکھ لے مڑ کر محو آرایش
آئینہ بن کے ہم بھی آئے ہیں

پے بہ پے راہ کی شکستوں نے
حوصلے اور بھی بڑھائے ہیں

زندگی ہے اسی کا نام اعجازؔ
ہیں وہ اپنے جو غم پرائے ہیں

اعجاز رحمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم