MOJ E SUKHAN

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے

ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہے
یہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہے

یہ اور بات کہ ملتا نہیں کوئی اس سے
مگر وہ شخص سراپا سپاس رہتا ہے

جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے

گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے
بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے

لکھی ہے کس نے یہ تحریر ریگ ساحل پر
بہت دنوں سے سمندر اداس رہتا ہے

میں وحشتوں کے سفر میں بھی ہوں کہاں تنہا
یہی گماں ہے کوئی آس پاس رہتا ہے

میں گفتگو کے ہر انداز کو سمجھتا ہوں
کہ میری ذات میں لہجہ شناس رہتا ہے

وہ فاصلوں میں بھی رکھتا ہے رنگ قربت کے
نظر سے دور سہی دل کے پاس رہتا ہے

جب ان سے گفتگو کرتا ہے کوئی بھی اعجازؔ
اک التماس پس التماس رہتا ہے

اعجاز رحمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم