MOJ E SUKHAN

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

غزل

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے
شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے

میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی
آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے

انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں
بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے

پھر کیا کرے گا رہ کے کوئی تیرے شہر میں
راتیں ہی جب نصیب ہوں راتیں گزار کے

سوچا ہے اپنے زخموں کے آنگن میں بیٹھ کر
سجدے کروں گا نقش تمنا ابھار کے

تنہائیوں کا درد سمیٹے ہوئے کوئی
فرحتؔ چلا ہے ٹھوکریں دنیا کو مار کے

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم