MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا

غزل

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا
مری نگاہ میں اک پیکر خیالی تھا

ہماری آپ کی شاید کوئی مثال نہیں
جو مر گیا ہے وہی آدمی مثالی تھا

کئی پتنگ کی صورت خلا میں ڈوب گیا
وہ جتنا تیز تھا اتنا ہی لاابالی تھا

اڑا اور اڑ کے فضاؤں میں ہو گیا تحلیل
بدن کے بوجھ سے اس کا وجود خالی تھا

وہ توڑ لیتا تھا پتے ہوا کی شاخوں سے
کمال اس کا حقیقت میں بے کمالی تھا

بنا ہوا تھا جو شہر وفا کا شہزادہ
وہ میں نہیں تھا مرا ذوق خوش جمالی تھا

میں چھپتا پھرتا تھا شہروں میں کوہساروں میں
وہ ایک شخص مگر ہر جگہ سوالی تھا

پڑا تھا راہ میں جو سنگ میل سے آگے
وہ اپنے وقت کا فرحتؔ نہیں غزالی تھا

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم