MOJ E SUKHAN

دل ہے اپنا تو غم پرائے ہیں

غزل

دل ہے اپنا تو غم پرائے ہیں
ہائے کیا کیا فریب کھائے ہیں

تار اشکوں کا کس طرح ٹوٹے
ہم بھی اک بار مسکرائے ہیں

تکیہ تھا زاد راہ پر اپنا
راہزن کتنے کام آئے ہیں

میں یہ سمجھا تھا ہم سفر ہوں گے
آہ کتنے مہیب سائے ہیں

بھول بیٹھے ہوں وہ کہیں اے دل
آج کیوں اتنے یاد آئے ہیں

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم