غزل
رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے
شہر میں ترے بھی اک غمگسار رہتا ہے
منحصر ہے یہ سب کچھ اپنی گفتگو ہی پر
ٹھیک ہو زباں تو پھر زندہ پیار رہتا ہے
بے سلیقہ ہوتا ہے جو بھی ذات میں اپنی
بزم میں تری وہ ہی بے وقار رہتا ہے
اعتدال کے رستے پر چلا جو بھی راہی
اُس کا رابطہ سب سے استوار رہتا ہے
تُو چلا گیا میرے شہر سے، ہوئی مدت
ہے یہ دل کہ جو اب بھی بے قرار رہتا ہے
جھوٹ پر نہ ہو مبنی وعدۂ وفا تو دوست
دو دلوں میں پھر قائم اعتبار رہتا ہے
اس حیات میں آیا ہی نہیں کوئی سہگلؔ
پھر وہ کون ہے جس کا انتظار رہتا ہے
احسان سہگل