MOJ E SUKHAN

رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے

غزل

رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے
شہر میں ترے بھی اک غمگسار رہتا ہے
منحصر ہے یہ سب کچھ اپنی گفتگو ہی پر
ٹھیک ہو زباں تو پھر زندہ پیار رہتا ہے
بے سلیقہ ہوتا ہے جو بھی ذات میں اپنی
بزم میں تری وہ ہی بے وقار رہتا ہے
اعتدال کے رستے پر چلا جو بھی راہی
اُس کا رابطہ سب سے استوار رہتا ہے
تُو چلا گیا میرے شہر سے، ہوئی مدت
ہے یہ دل کہ جو اب بھی بے قرار رہتا ہے
جھوٹ پر نہ ہو مبنی وعدۂ وفا تو دوست
دو دلوں میں پھر قائم اعتبار رہتا ہے
اس حیات میں آیا ہی نہیں کوئی سہگلؔ
پھر وہ کون ہے جس کا انتظار رہتا ہے
احسان سہگل
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم