MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم اپنے آپ کو ایسے گنوانے لگتے ہیں

غزل ہم اپنے آپ کو ایسے گنوانے لگتے ہیں بہت خوشی ہو تو ماتم منانے لگتے ہیں اکیلا پن ہے اور ایسا اکیلا پن جس میں کوئی جو پوچھ لے کچھ سب بتانے لگتے ہیں سمجھ میں آتا نہیں جب کوئی سوال ہمیں بہانے باز ہیں ہم گنگنانے لگتے ہیں وہ بات دیکھتے ہیں دل […]

ہم اپنے آپ کو ایسے گنوانے لگتے ہیں Read More »

یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا

غزل یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا لٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گا مجھے بچا لے مرے یار سوز امشب سے کہ اک ستارۂ وحشت جبیں سے گزرے گا تمام سنگ بدستوں میں میرا شیشۂ دل خبر نہیں تھی کہ اتنے یقیں سے گزرے گا زمین تنگ سے ہفت

یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا Read More »

سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیں

غزل سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیں ہم ایسے لوگوں کی کشتی کا ناخدا بھی نہیں یقین دل کے لیے عالم گمانی میں اسے پکار رہا ہوں تو سن رہا بھی نہیں یہ کس امید پہ آنکھوں میں رقص باقی ہے تو جا چکا ترے آنے کا آسرا بھی نہیں الگ الگ سی

سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیں Read More »

صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھی

غزل صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھی اس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھی کتنا بے فیض زمانہ تھا کہ خواہش میری گوشۂ دل میں تڑپتی ہوئی پائی گئی تھی مدتوں تجھ پہ لٹاتا رہا میں دولت دل جو کسی اور کے حصے کی کمائی گئی تھی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں اتر

صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھی Read More »

دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے

غزل دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے عالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہے تشنہ لب ایسا کہ ہونٹوں پہ پڑے ہیں چھالے مطمئن ایسا ہوں دریا کو بھی حیرانی ہے اب کہ ممکن ہے زمیں خون کی پیاسی نہ رہے اک قبیلے نے مری بات نہیں مانی ہے

دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے Read More »

اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے

غزل اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے یعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہے اک شعر سے خائف ہوا جاتا ہے زمانہ اس میز پہ رکھا مرا دیوان ابھی ہے یہ شور بنے گا کسی بیکس کا ترانہ دنیا مری زنجیر سے حیران ابھی ہے یہ ہجر مسلسل ہے مگر وصل

اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے Read More »

مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں

غزل مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں گماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیں پلٹنے والے پرندوں پہ بد حواسی ہے میں اس زمیں کا کہیں آخری شجر تو نہیں بلند ہوتے ہوئے دیکھ لے زمیں کی طرف کہ تیرے پاؤں کے نیچے کسی کا سر تو نہیں کسی کے حق

مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں Read More »

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں

غزل نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں کہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاں جدائی سے ہووے مفرور جاں قالب کے صوبہ سوں اپس دیدار سوں کرتی ہیں پھر اس کوں بحال انکھیاں نگاہ گرم گل رو سیں ہوا روشن یو مالی پر کہ اب سورج نمن نرگس پہ

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں Read More »

تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہے

غزل تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہے جپتا ہوں مالا یار کی زنار کی سوگند ہے بانکا حسن سن کر ترا خوباں نے کھایا پیچ و تاب اے نک‌ پلک تجھ چہرۂ بل دار کی سوگند ہے خوباں کی خوبی ہے خزاں تیری بہار آنگے سدا عاشق کوں اے گلفام تجھ

تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہے Read More »

تجھ چہرۂ گل رنگ نیں خوباں کو گلگونی دیا

غزل تجھ چہرۂ گل رنگ نیں خوباں کو گلگونی دیا تیرے لب یاقوت نے مجھ دل کوں پر خونی دیا دیوانہ ہو گھر چھوڑ کر جاتا رہا صحرا طرف اے رشک لیلیٰ تو نے جب عاشق کو مجنونی دیا مضمون عالی باندھتا ہوں تیرے قد کی وصف میں مجھ طبع کوں صحبت نے تیری جب

تجھ چہرۂ گل رنگ نیں خوباں کو گلگونی دیا Read More »