MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا

غزل

یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا
لٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گا

مجھے بچا لے مرے یار سوز امشب سے
کہ اک ستارۂ وحشت جبیں سے گزرے گا

تمام سنگ بدستوں میں میرا شیشۂ دل
خبر نہیں تھی کہ اتنے یقیں سے گزرے گا

زمین تنگ سے ہفت آسماں کی وسعت تک
میں ڈھونڈھ لاؤں گا تجھ کو کہیں سے گزرے گا

دیار غیر ادھر آ کے اس کی وسعت ناپ
اک آسمان مری سرزمیں سے گزرے گا

جو ایک بار تری راہ سے گزر جائے
پھر اس کی ضد ہے دوبارہ وہیں سے گزرے گا

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم