غزل
دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے
عالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہے
تشنہ لب ایسا کہ ہونٹوں پہ پڑے ہیں چھالے
مطمئن ایسا ہوں دریا کو بھی حیرانی ہے
اب کہ ممکن ہے زمیں خون کی پیاسی نہ رہے
اک قبیلے نے مری بات نہیں مانی ہے
پیڑ کے بعد پرندوں نے بھی پر کاٹ لیے
از زمیں تا بہ فلک سوگ ہے ویرانی ہے
وہ جو لڑکی ہے نا کپڑے نہیں چھوٹے اس کے
دیکھنے والے تری آنکھ میں عریانی ہے
حالت دل پہ پرندوں نے بھی نوحہ لکھا
چھوڑنے والے بتا تجھ کو پشیمانی ہے
قمر عباس قمر