MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے

غزل

دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہے
عالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہے

تشنہ لب ایسا کہ ہونٹوں پہ پڑے ہیں چھالے
مطمئن ایسا ہوں دریا کو بھی حیرانی ہے

اب کہ ممکن ہے زمیں خون کی پیاسی نہ رہے
اک قبیلے نے مری بات نہیں مانی ہے

پیڑ کے بعد پرندوں نے بھی پر کاٹ لیے
از زمیں تا بہ فلک سوگ ہے ویرانی ہے

وہ جو لڑکی ہے نا کپڑے نہیں چھوٹے اس کے
دیکھنے والے تری آنکھ میں عریانی ہے

حالت دل پہ پرندوں نے بھی نوحہ لکھا
چھوڑنے والے بتا تجھ کو پشیمانی ہے

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم