حالیہ پوسٹ
بچوں کی نظمیں
آؤ آؤ سیر کو جائیں
آؤ آؤ! سیر کو جائیں باغ میں جا کر شور مچائیں اُچھلیں کُودیں ناچیں گائیں آؤ، آؤ! سیر کو جائیں کالے کالے بادل آئےلہرائے اور سر پر چھائےمینھ برسے گا خوب نہائیںآؤ، آؤ! سیر کو جائیں کشتیاں لے کر کچھ کاغذ کیکوئی بڑی اور کوئی چھوٹیایک کے پیچھے ایک بہائیںآؤ،
آؤ ہم بن جائیں تارے
کلام: چراغ حسن حسرت آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارےدھرتی سے آکاش پہ جائیںچمکیں دمکیں ناچیں گائیںبادل آئے دھوم مچاتےلے کر کالے کالے چھاتےآؤ ہم بھی دھوم مچائیںان کے پَردوں میں چُھپ جائیںآؤ آنکھ مچولی کھیلیںمل کر سب ہمجولی کھیلیںلو گلزار شفق کا پُھولاڈالا آ کے دھنک نے
رب کا شکر ادا کر بھائی
رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی اس مالک کو کیوں نہ پکاریں جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں خاک کو اس نے سبزہ بنایا سبزے کو پھر گائے نے کھایا کل جو گھاس چری تھی بن میںدودھ بنی اب گائے کے تھن میں سبحان اللہ
خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئیمیں
پرندے کی فریاد
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زماناوہ باغ کی بہاریں، وہ سب کا چہچہاناآزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کیاپنی خوشی سے آنا، اپنی خوشی سے جانالگتی ہے چوٹ دل پر، آتا ہے یاد جس دمشبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مُسکراناوہ پیاری پیاری صورت، وہ کامنی سی مورتآباد
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری! دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے!ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے! ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت زندگی ہو