MOJ E SUKHAN

بے تحاشہ اسے سوچا جائے

غزل

بے تحاشہ اسے سوچا جائے
زخم کو اور کریدا جائے

جانے والے کو چلے جانا ہے
پھر بھی رسماً ہی پکارا جائے

ہم نے مانا کہ کبھی پی ہی نہیں
پھر بھی خواہش کہ سنبھالا جائے

آج تنہا نہیں جاگا جاتا
رات کو ساتھ جگایا جائے

حرف لکھنا ہی نہیں کافی ہے
آؤ اب حرف مٹایا جائے

ثروت زہرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم