MOJ E SUKHAN

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے

غزل

دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلے
لطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلے

ہائے انداز محبت بھی عجب تھا ان کا
کر رہے تھے وہ جفا مجھ پہ وفا سے پہلے

کس قدر تیری دعاؤں میں اثر تھا اے دوست
ہو گیا ہوں میں صحت یاب دوا سے پہلے

کیا بتاؤں تجھے ہمدم کہ تھا ابتر کتنا
حال میرا ترے دامن کی ہوا سے پہلے

بات یہ میری ذرا غور سے سن لو دانشؔ
کام کرنا نہ کوئی نام خدا سے پہلے

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم