MOJ E SUKHAN

چاندنی کا رقص دریا پر نہیں دیکھا گیا

غزل

چاندنی کا رقص دریا پر نہیں دیکھا گیا
آپ یاد آئے تو یہ منظر نہیں دیکھا گیا

آپ کے جاتے ہی ہم کو لگ گئی آوارگی
آپ کے جاتے ہی ہم سے گھر نہیں دیکھا گیا

اپنی ساری کج کلاہی داستاں ہو کر رہی
عشق جب مذہب کیا تو سر نہیں دیکھا گیا

پھول کو مٹی میں ملتا دیکھ کر مٹی ہوئے
ہم سے کوئی پھول مٹی پر نہیں دیکھا گیا

جسم کے اندر سفر میں روح تک پہنچے مگر
روح کے باہر رہے اندر نہیں دیکھا گیا

جس گدا نے آپ کے در پر صدا دی ایک بار
اس گدا کو پھر کسی در پر نہیں دیکھا گیا

آپ کو پتھر لگے جاویدؔ جی دیکھا ہے یہ
آپ کے ہاتھوں میں گو پتھر نہیں دیکھا گیا

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم