MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملال ہے کہ اب کوئی ملال کیوں نہیں رہا

ملال ہے کہ اب کوئی ملال کیوں نہیں رہا
یہ تو بھی سوچ تو مرا سوال کیوں نہیں رہا

نئی محبتوں میں وہ روایتیں کہاں گئیں
یہ اب تجھے قبیلے کا خیال کیوں نہیں رہا

ہر ایک بات مان لی تو کہہ دیا جناب نے
کوئی تو بات ہے کہ بات ٹال کیوں نہیں رہا

یہ اب کی بار پھول مجھ کو پھول کیوں نہیں لگے
کبھی جو تھا بہار کا جمال کیوں نہیں رہا

نئے تعلقات میں صغیر کے ہی تذکرے
وہ اپنے دل سے اب مجھے نکال کیوں نہیں رہا

(صغیر احمد صغیر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم