MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اسے زمانے کی ایسی کوئی ہوا نہ لگے

غزل

اسے زمانے کی ایسی کوئی ہوا نہ لگے
خفا وہ مجھ سے رہے اور کبھی خفا نہ لگے

کسی کے بارے میں کچھ بھی کہو تو ایسے کہو
کہ سننے والا سنے اور اسے برا نہ لگے

بہار آئی تو بیشک ہے صحنِ گلشن میں
کوئی بھی پھول مگر شاخ پر کِھلا نہ لگے

اگر بشر ہے تو رکھے تقاضۂ بشری
ہمارے بیچ رہے اور دیوتا نہ لگے

ہر اک دیار سے پھوٹے ہنسی خوشی کی کرن
کوئی دریچہ کسی طرح بے صدا نہ لگے

خدا کرے کہ مرے عہد کی ہر اِک بیٹی
پڑھی لکھی بھی لگے اور بے حیا نہ لگے

اب اس مقام پہ آکر بچھڑ رہے ہو کہ جب
تمھارے بن مجھے اچھی کوئی فضا نہ لگے

تمھارے واسطے خود کو تباہ کر بیٹھی
"دعا کرو کہ تمھیں میری بد دعا نہ لگے”

میں اسکے حق میں دعا مانگتی ہوں اے نصرت
"وہ بے وفائی کرے اور بےوفا نہ لگے”

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم