MOJ E SUKHAN

اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں

غزل

اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں
اے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میں

دل غم کا آئنہ ہے نظر دل کا آئنہ
کیسے چھپاؤں سوز نہاں کے اثر کو میں

عالم تمام ایک فریب نگاہ ہے
اب کیا دکھاؤں چشم حقیقت نگر کو میں

مدہوشیوں میں ٹوٹ گیا دل کا آئنہ
اب کیسے منہ دکھاؤں گا آئینہ گر کو میں

ان کی نظر خدا نہ کرے منفعل ہو کیفؔ
دیکھوں نہ کاش جذبۂ غم کے اثر کو میں

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم