MOJ E SUKHAN

گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

غزل

گھر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے
اب بیابان ہی گھر لگتا ہے

پاؤں رکھتا ہوں تو دھنستی ہے زمیں
سر اٹھاتا ہوں تو سر لگتا ہے

قتل و غارت ہے گلی کوچوں میں
شہر دہشت کا نگر لگتا ہے

ڈگمگاتی ہے دھماکوں سے زمیں
آسماں زیر و زبر لگتا ہے

زندگی یوں تو گزر جائے گی
کتنا مشکل یہ سفر لگتا ہے

غیر تو غیر ہمیں آج کے دن
اپنے ہم سایے سے ڈر لگتا ہے

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم