MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے

غزل

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے
نظر آتا ہے جو ہوتا نہیں ہے

تم اپنے عکس میں کیا دیکھتے ہو
تمہارا عکس بھی تم سا نہیں ہے

ملے جب تم تو یہ احساس جاگا
اب آگے کا سفر تنہا نہیں ہے

بہت سوچا ہے ہم نے زندگی پر
مگر لگتا ہے کچھ سوچا نہیں ہے

یہی جانا ہے ہم نے کچھ نہ جانا
یہی سمجھا ہے کچھ سمجھا نہیں ہے

یقیں کا دائرہ دیکھا ہے کس نے
گماں کے دائرے میں کیا نہیں ہے

یہاں تو سلسلے ہی سلسلے ہیں
کوئی بھی واقعہ تنہا نہیں ہے

بندھے ہیں کائناتی بندھنوں میں
کوئی بندھن مگر دکھتا نہیں ہے

ہو کس نسبت سے تم جاویدؔ صاحب
نہ ہونا تو ہے یاں ہونا نہیں ہے

عبداللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم