MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے

غزل

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے
ہم ہی تھے مال غنیمت ہم ہی غارت گر بھی تھے

آستینوں میں چھپا کر سانپ بھی لائے تھے لوگ
شہر کی اس بھیڑ میں کچھ لوگ بازی گر بھی تھے

برف منظر دھول کے بادل ہوا کے قہقہے
جو کبھی دہلیز کے باہر تھے وہ اندر بھی تھے

آخر شب درد کی ٹوٹی ہوئی بیساکھیاں
آڑے ترچھے زاویے موسم کے چہرے پر بھی تھے

رات ہم نے جگنوؤں کی سب دکانیں بیچ دیں
صبح کو نیلام کرنے کے لیے کچھ گھر بھی تھے

کچھ بلا عنوان رشتے اجنبی سرگوشیاں
رتجگوں کے جشن میں زخموں کے سوداگر بھی تھے

شب پرستوں کے نگر میں بت پرستی ہی نہ تھی
وحشتیں تھیں سنگ مرمر بھی تھا کاری گر بھی تھے

اس خرابے میں نئے موسم کی سازش تھی تو رندؔ
لذت احساس کے لمحوں کے جلتے پر بھی تھے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم