MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے

غزل

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے
پھر مری آنکھوں کو پہرے داریاں دے دیجئے

ہو سکے تو یہ نوازش ہم فقیروں پر کریں
بجھتے رنگوں کا ہمیں یہ آسماں دے دیجئے

شب پرستوں کو بھی تسکین انا مل جائے گی
ان کا حق ہے ان کو شب بیداریاں دے دیجئے

شاخ پر کانٹوں کو پیراہن بدلنے کے لیے
موسموں کو شبنمی بے سمتیاں دے دیجئے

بے حسی کا خشک سا صحرا ہے آنکھوں میں مری
دھول منظر سے تو کچھ طغیانیاں دے دیجئے

دھندلکے تو نوحہ خوانی میں بہت مصروف ہیں
رات زخمی ہے اسے بیساکھیاں دے دیجئے

عارضی موسم کو بھی احساس محرومی نہ ہو
گھر کے سناٹوں کو احساس زیاں دے دیجئے

دھوپ میں تھوڑی سی گنجائش نکل آئے تو رندؔ
ایک مٹھی چھاؤں کا ہی سائباں دے دیجئے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم