MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں

غزل دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں کلاس فیلو ہیں ہم دوستی تو ہوگی ناں نظر جھکائے یوں ہی پاس سے نہیں گزرا فریب کار کو شرمندگی تو ہوگی ناں یہ میرا فیض نہیں خانوادے کا ہے مزاج سو میرے چاروں طرف روشنی تو ہوگی ناں ہمارے جیب تراشوں کے حسن ظن […]

دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں Read More »

غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں

غزل غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں تمہاری مرضی

غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں Read More »

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے

غزل خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے اپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہے اے شدت گریہ کہیں دل ڈوب نہ جائے یہ درد کا لمحہ مجھے دریا سا لگے ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے ہمیشہ کے لیے ہم دل ہے کہ اسی موڑ پہ ٹھہرا سا لگے

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے Read More »

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے

غزل ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے اڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنے سونی آنکھوں میں تلاشو نہ وفا کے موتی ہم لٹا آئے کہیں اور خزانے اپنے بند پلکوں پہ یہ کس درد نے دستک دی ہے ٹوٹ جائیں نہ کہیں خواب سہانے اپنے ہم دریچے پہ کھڑے ہو کے

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے Read More »

مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی

غزل مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی فلک کاندھوں پہ رکھا تھا زمیں ٹھوکر پہ رکھی تھی ہمارے پیار کی شہرت ہوئی تھی یوں زمانے میں ورق سڑکوں پہ بکھرے تھے کہانی گھر پہ رکھی تھی کیا ہے حرف حق ہم نے ادا کچھ اس قرینے سے نظر قاتل پہ رکھی تھی

مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی Read More »

کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا

غزل کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا میں ترا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا دل سے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا سن لو یہ دریچہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا رسم اظہار محبت میں ضروری ہی سہی یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا وصل کی چاہ کروں ہجر

کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا Read More »

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

غزل ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے جگمگاتے ہیں ترے نقش قدم رات گئے کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے روز آتے ہیں صدا دے

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے Read More »

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

غزل اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی اس بار تو پیمانہ اٹھایا بھی نہیں تھا اس بار تھی رندوں کی خطا اور طرح کی ہم آنکھوں میں آنسو نہیں لاتے ہیں کہ ہم نے پائی ہے وراثت میں ادا اور طرح کی اس

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی Read More »

بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

غزل بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو پاگل ہوئی ہے اب کے ہوا جاگتے رہو سجدوں میں ہے خلوص تو پھر چاندنی کے ساتھ اترے گا آنگنوں میں خدا جاگتے رہو الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑھ کر دانشوران قوم ذرا جاگتے رہو کیسا عجیب شور ہے بستی میں آج کل ہر گھر

بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو Read More »

تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا

غزل تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا اشک آنکھوں میں چھپانا تو خبر کر دینا ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں جو سنانا ہیں تمہیں تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا حادثے راہ محبت کا مقدر ٹھہرے جب ہمیں دل سے بھلانا تو خبر کر دینا جن کتابوں میں چھپائے ہیں

تشنگی دل کی بجھانا تو خبر کر دینا Read More »