دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں
غزل دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں کلاس فیلو ہیں ہم دوستی تو ہوگی ناں نظر جھکائے یوں ہی پاس سے نہیں گزرا فریب کار کو شرمندگی تو ہوگی ناں یہ میرا فیض نہیں خانوادے کا ہے مزاج سو میرے چاروں طرف روشنی تو ہوگی ناں ہمارے جیب تراشوں کے حسن ظن […]
دیے جلیں گے تو پھر روشنی تو ہوگی ناں Read More »