MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غموں کی بھیڑ میں رستہ بنا کے چلتا ہوں

غزل

غموں کی بھیڑ میں رستہ بنا کے چلتا ہوں
علی کی آل ہوں میں سر اٹھا کے چلتا ہوں

ذرا سنبھل کے مرے راستے میں تم آنا
میں اپنے گھر سے لہو آزما کے چلتا ہوں

یہ تیرا شہر مری سانس چھین لیتا ہے
میں اپنے گاؤں میں سینہ پھلا کے چلتا ہوں

جو میری راہ میں پتھر گرا کے جاتا ہے
میں اس کی راہ سے پتھر ہٹا کے چلتا ہوں

ہمیشہ خیر سے پہنچا ہوں اپنی منزل پر
سفر سے پہلے میں کچھ دے دلا کے چلتا ہوں

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم