MOJ E SUKHAN

دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے

غزل

دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے
اصل جو مال تھا وہ ایسے چھپایا گیا ہے

جانے کے واسطے دیوار بنائی گئی ہے
روکنے کے لیے دروازہ بنایا گیا ہے

اپنی آنکھوں کو بھی پہچان نہیں پاتا ہوں
ایک مدت سے یہاں کوئی نہ آیا گیا ہے

سیدھے چلتے ہیں تو دیوار سے ٹکراتے ہیں
کامیابی کا سبق ایسا پڑھایا گیا ہے

دل کے اک داغ کو کچھ ایسے سجا اے فن کار
لوگ سمجھیں کہ یہاں پھول بنایا گیا ہے

یہ جو سب نظریں جھکائے ہوئے آتے ہیں نظر
لوگ اندھے نہیں آئینہ دکھایا گیا ہے

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم