MOJ E SUKHAN

کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا

غزل

کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا
میں ترا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا

دل سے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا سن لو
یہ دریچہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا

رسم اظہار محبت میں ضروری ہی سہی
یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا

وصل کی چاہ کروں ہجر میں بھی آہ بھروں
یہ مرے عشق کا معیار نہیں ہو سکتا

اپنی تعریف سنی ہے تو یہ سچ بھی سن لے
تجھ سے اچھا ترا کردار نہیں ہو سکتا

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم