MOJ E SUKHAN

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

غزل

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے
جگمگاتے ہیں ترے نقش قدم رات گئے

کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر
یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے

غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا
جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے

روز آتے ہیں صدا دے کے چلے جاتے ہیں
دل کے دروازے پہ کچھ اہل کرم رات گئے

روک لیتی ہے تری یاد سہارا بن کر
ڈگمگاتے ہیں اگر میرے قدم رات گئے

جن کی امید میں ہم دن کو جیا کرتے ہیں
ٹوٹ جاتے ہیں وہی قول و قسم رات گئے

جن کی قسمت میں نہیں دن کا اجالا منصورؔ
ان چراغوں میں جلا کرتے ہیں ہم رات گئے

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم