MOJ E SUKHAN

مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی

غزل

مسافت منزلوں کی جب ہمارے سر پہ رکھی تھی
فلک کاندھوں پہ رکھا تھا زمیں ٹھوکر پہ رکھی تھی

ہمارے پیار کی شہرت ہوئی تھی یوں زمانے میں
ورق سڑکوں پہ بکھرے تھے کہانی گھر پہ رکھی تھی

کیا ہے حرف حق ہم نے ادا کچھ اس قرینے سے
نظر قاتل پہ رکھی تھی زباں خنجر پہ رکھی تھی

تجھے پانے کی الجھن میں کچھ ایسے دن بھی گزرے ہیں
بدن شبنم سے جلتا تھا قضا بستر پہ رکھی تھی

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم