MOJ E SUKHAN

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے

غزل

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے
اپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہے

اے شدت گریہ کہیں دل ڈوب نہ جائے
یہ درد کا لمحہ مجھے دریا سا لگے ہے

جس موڑ پہ بچھڑے تھے ہمیشہ کے لیے ہم
دل ہے کہ اسی موڑ پہ ٹھہرا سا لگے ہے

آنکھوں میں بسی ہے کوئی کھوئی ہوئی خوشبو
جس پھول کو دیکھو وہی چہرا سا لگے ہے

برسوں سے کسی کے لیے روئے بھی نہیں ہم
کیوں زخم تمنا ہے کہ تازہ سا لگے ہے

تم ڈوبتے سورج کے لیے رؤو ہو قیصرؔ
کچھ دیر میں سایہ بھی بچھڑتا سا لگے ہے

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم