MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے

غزل دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے ہم اپنی پیاس جا کے سمندر میں ڈال آئے جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے کچھ اس طرح سے ذکر تباہی سنائیے آنکھوں میں خون آئے نہ شیشے میں بال آئے سمجھو کہ […]

دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے Read More »

میں ہوں خاموش مگر بول رہا ہے مجھ میں

غزل میں ہوں خاموش مگر بول رہا ہے مجھ میں ایسا لگتا ہے کوئی اور چھپا ہے مجھ میں مجھ سے دلی کی نہیں دل کی کہانی سنئے شہر تو یہ بھی کئی بار لٹا ہے مجھ میں تجھ کو چاہت ہے وفا کی تو مجھے غور سے پڑھ وہ کتابوں میں کہاں ہے جو

میں ہوں خاموش مگر بول رہا ہے مجھ میں Read More »

گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا

غزل گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا خوشبو سے کس زبان میں

گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا Read More »

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

غزل آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے کچھ آنسوؤں نے پیار کو بد نام کر دیا جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بک گئے ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا دل کو بچا کے رکھا

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا Read More »

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

غزل آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب جینے کے لئے اور سہارے نکل آئے میں نے تو یونہی ذکر وفا چھیڑ دیا تھا بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے جب میں نے سفینے میں ترا نام لیا

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے Read More »

دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں

غزل دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں شام ہوتے ہی سبھی خود کو سلانے لگ جائیں کیا اندھیرا ہی اندھیرا ہے زمیں کے اندر کیا چراغوں کو تہ خاک دبانے لگ جائیں کاش ان عشق کے کتبوں پہ ہوں کنداں ہم لوگ کاش اس عشق میں ہم لوگ ٹھکانے لگ جائیں اب

دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں Read More »

جب بھی اس حسن نازکی سے ملوں

غزل جب بھی اس حسن نازکی سے ملوں اک عجب رنگ روشنی سے ملوں تو جو کہہ دے تو چھوڑ دوں یہ جہاں تو جو کہہ دے تو ہر کسی سے ملوں خود کو اس واسطے کیا ہے چراغ تاکہ میں اپنی روشنی سے ملوں ہر طرف تو ہی تو دکھائی دے اس قدر شوق

جب بھی اس حسن نازکی سے ملوں Read More »

حرف اور صوت کی جاگیر پہ آئے ہوئے ہیں

غزل حرف اور صوت کی جاگیر پہ آئے ہوئے ہیں میرا مطلب ہے در میرؔ پہ آئے ہوئے ہیں جس قدر گھاؤ لگے ہیں تن خستہ پہ مرے اتنے الزام بھی شمشیر پہ آئے ہوئے ہیں اک عجب قید سے گزرے ہیں کہ زخموں کے نشاں جسم تو جسم ہے زنجیر پہ آئے ہوئے ہیں

حرف اور صوت کی جاگیر پہ آئے ہوئے ہیں Read More »

پہلے پہلے مری دعا ہوا وہ

غزل پہلے پہلے مری دعا ہوا وہ پھر دعاؤں سے ماورا ہوا وہ تو کبھی دیکھ دن نکلتے ہوئے ہو بہ ہو جیسے جاگتا ہوا وہ خود کو کرنا پڑا مجھے زنگار تب کہیں جا کے آئنہ ہوا وہ آخرش خواب میں چلا آیا میرے ہی خواب دیکھتا ہوا وہ میرا کردار مانگتا ہوا میں

پہلے پہلے مری دعا ہوا وہ Read More »

ان سے یوں رابطے نزول پڑے

غزل ان سے یوں رابطے نزول پڑے راہ میں جابجا تھے پھول پڑے کیا کہا عشق کے سفر پہ ہو گر یہ سچ ہے تو دوست طول پڑے جس پہ تصویر زندگی نہ لگے ایسی دیوار دل پہ دھول پڑے منکر خد و خال دکھتے ہو جا تجھے آئنہ نزول پڑے اس نے جوڑے میں

ان سے یوں رابطے نزول پڑے Read More »