MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے

غزل

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے
قدم جماتی ہوئی سب رتوں کو چھوڑ چکے

کوئی تصور زنداں بھی اب نہیں باقی
ہم اس زمانے کے سب دوستوں کو چھوڑ چکے

بھٹک رہے ہیں اب اڑتے ہوئے غبار کے ساتھ
مسافر اپنے سبھی راستوں کو چھوڑ چکے

نکل چکے ہیں ترے روز و شب سے اب آگے
دنوں کو چھوڑ چکے ہم شبوں کو چھوڑ چکے

نہ جانے کس لیے ہجرت پہ وہ ہوئے مجبور
پرندے اپنے سبھی گھونسلوں کو چھوڑ چکے

جو مر گئے انہیں زندان سے نکالیں گے
نہیں کہ اہل قفس قیدیوں کو چھوڑ چکے

اگرچہ ایسا نہیں لگ رہا ہے ایسا مگر
کہ راہی سارے ظفرؔ رہبروں کو چھوڑ چکے

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم